حدیث نمبر: 12248
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الدِّينِ ظَاهِرِينَ ، لِعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَ : " بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وِجَادَةً عَنْ خَطِّ أَبِيهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَفِي فَضْلِ أَهْلِ الشَّامِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کا ایک گروہ ہمیشہ دین پر گامزن رہے گا ، اور وہ لوگ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ اُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، البتہ انہیں کچھ شدت ( یعنی تنگی اور مشقت ) کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ( یعنی قیامت ) اُن کے پاس آئے گا ، تو وہ اسی حالت میں ہوں گے ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیت المقدس کے اطراف و اکناف میں ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے ” وجادۃ “ کے طور پر ، اپنے والد کی تحریر سے نقل کی ہے ، اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) اہل شام کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث ذکر ہوں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7643)»