مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ تَدَاعِي الْأُمَمِ . باب: اُمتوں کا ایک دوسرے کو دعوت دینا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِثَوْبَانَ : " كَيْفَ بِكَ يَا ثَوْبَانُ إِذَا تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ تُصِيبُونَ مِنْهُ ؟ " . قَالَ ثَوْبَانُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا ؟ قَالَ : " لَا ، أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ " . قَالُوا : وَمَا الْوَهْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمُ الْقِتَالَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے ثوبان ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب مختلف اُمتیں تمہارے خلاف اس طرح ایک دوسرے کو دعوت دیں گی ، جس طرح تم ایک دوسرے کو کھانے کے پیالے کے لئے دعوت دیتے ہو ، تمہیں اس صورتحال میں نقصان ہو گا ، سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا یہ ہماری قلت کی وجہ سے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس وقت زیادہ تعداد میں ہو گے ، لیکن تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دی جائے گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کمزوری سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا دنیا سے محبت کرنا ، اور تمہارا جنگ کو ناپسند کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند عمدہ ہے ۔