مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ دَاهَنَ وَسَكَتَ عَنِ الْحَقِّ وَأَهْلِ زَمَانِهِمْ . باب: جو شخص مداھنت کرے اور حق سے خاموش رہے ، اور اس کے اہل زمانہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَكُونُ وُجُوهُهُمْ وُجُوهَ الْآدَمِيِّينَ ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبَ الشَّيَاطِينِ ، أَمْثَالُ الذِّئَابِ الضَّوَارِي ، لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ شَيْءٌ مِنَ الرَّحْمَةِ ، سَفَّاكُونَ لِلدِّمَاءِ لَا يَرْعَوْنَ عَنْ قُبْحٍ ، إِنْ تَابَعْتَهُمْ وَارَوْكَ ، وَإِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ ، وَإِنْ حَدَّثُوكَ كَذَبُوكَ ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُمْ خَانُوكَ ، صَبِيُّهُمْ عَارِمٌ ، وَشَابُّهُمْ شَاطِرٌ ، وَشَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، الِاعْتِزَازُ بِهِمْ ذُلٌّ ، وَطَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ ، الْحَلِيمُ فِيهِمْ غَاوٍ ، وَالْآمِرُ فِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ مُتَّهَمٌ ، وَالْمُؤْمِنُ فِيهِمْ مُسْتَضْعَفٌ ، وَالْفَاسِقُ فِيهِمْ مُشَرَّفٌ ، السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ ، وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ ، وَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ، جن کے چہرے آدمیوں کے چہرے جیسے ہوں گے ، اور ان کے دل شیاطین کے دلوں جیسے ہوں گے ، وہ چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ، ان کے دلوں میں کوئی رحمت نہیں ہو گی ، وہ بہت زیادہ خون بہانے والے ہوں گے اور کسی قبیح چیز سے نہیں رکیں گے ، اگر تم ان کی پیروی کرو گے ، تو وہ تمہیں پس پشت ڈال دیں گے اور اگر تم ان سے چھپنے کی کوشش کرو گے ، تو وہ تمہیں تلاش کریں گے ، اگر وہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں گے ، تو تمہارے ساتھ جھوٹ بولیں گے ، اگر تم انہیں امین بناؤ گے ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں گے ، ان کے بچے خبیث ہوں گے ، ان کے نوجوان شاطر ہوں گے اور بوڑھے نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ، اُن کے حوالے سے عزت حاصل کرنا ، درحقیقت ذلت ہو گا اور ان کے پاس ، جو ( مال وغیرہ ) موجود ہے ، اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا ، غربت ہو گی ، ان کے درمیان بردبار شخص گمراہ ہو گا ، ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے والا شخص تہمت یافتہ ہو گا ، ان کے درمیان مؤمن کمزور ہو گا ، ان کے درمیان فاسق کو نمایاں حیثیت حاصل ہو گی ، ان کے درمیان سنت ، بدعت ہو گی اور ان کے درمیان بدعت ، سنت ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ان میں سے بدترین لوگوں کو مسلط کر دے گا ، پھر ان کے نیک لوگ دعا کریں گے ، لیکن وہ قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشاپوری ہے اور وہ متروک ہے ۔