کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص مداھنت کرے اور حق سے خاموش رہے ، اور اس کے اہل زمانہ کا بیان
حدیث نمبر: 12238
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى يُتْرَكُ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَهُمَا سَيِّدَا أَعْمَالِ أَهْلِ الْبِرِّ ؟ قَالَ : " إِذَا أَصَابَكُمْ مَا أَصَابَ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَصَابَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ قَالَ : " إِذَا دَاهَنَ خِيَارُكُمْ فُجَّارَكُمْ ، وَصَارَ الْفِقْهُ فِي شِرَارِكُمْ ، وَصَارَ الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَلْبَسُكُمْ فِتْنَةٌ تَكُرُّونَ وَيُكَرُّ عَلَيْكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا کب چھوڑیں گے ؟ جبکہ یہ دونوں نیکوکار لوگوں کے اعمال کے سردار ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت ( چھوڑیں گے ) جب تمہیں وہی چیز لاحق ہو گی ، جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنی اسرائیل کو کیا چیز لاحق ہوئی تھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تمہارے بہترین لوگ ، تمہارے گنہگار لوگوں کے سامنے مداھنت کریں گے ( یعنی جو اُن لوگوں کے من میں ہو گا اس کے برخلاف ظاہر کریں گے ) اور علم ، تمہارے بدترین لوگوں میں چلا جائے گا اور بادشاہی تمہارے کمسن لوگوں میں چلی جائے گی ، تو اُس وقت تمہیں فتنے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ، جو حملہ آور ہونے والے ہوں گے اور تم پر حملہ کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (144)»
حدیث نمبر: 12239
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَبِرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو کھلے عام ( گناہ ) کرنے والے ہوں گے اور پوشیدہ طور پر ( گناہ کرنے ) کے دشمن ہوں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیونکہ وہ ایک دوسرے سے رغبت رکھتے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ڈرتے بھی ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12239
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3301) اخرجه احمد فى المسند (235/5)»
حدیث نمبر: 12240
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَكُونُ وُجُوهُهُمْ وُجُوهَ الْآدَمِيِّينَ ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبَ الشَّيَاطِينِ ، أَمْثَالُ الذِّئَابِ الضَّوَارِي ، لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ شَيْءٌ مِنَ الرَّحْمَةِ ، سَفَّاكُونَ لِلدِّمَاءِ لَا يَرْعَوْنَ عَنْ قُبْحٍ ، إِنْ تَابَعْتَهُمْ وَارَوْكَ ، وَإِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ ، وَإِنْ حَدَّثُوكَ كَذَبُوكَ ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُمْ خَانُوكَ ، صَبِيُّهُمْ عَارِمٌ ، وَشَابُّهُمْ شَاطِرٌ ، وَشَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، الِاعْتِزَازُ بِهِمْ ذُلٌّ ، وَطَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ ، الْحَلِيمُ فِيهِمْ غَاوٍ ، وَالْآمِرُ فِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ مُتَّهَمٌ ، وَالْمُؤْمِنُ فِيهِمْ مُسْتَضْعَفٌ ، وَالْفَاسِقُ فِيهِمْ مُشَرَّفٌ ، السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ ، وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ ، وَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ، جن کے چہرے آدمیوں کے چہرے جیسے ہوں گے ، اور ان کے دل شیاطین کے دلوں جیسے ہوں گے ، وہ چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ، ان کے دلوں میں کوئی رحمت نہیں ہو گی ، وہ بہت زیادہ خون بہانے والے ہوں گے اور کسی قبیح چیز سے نہیں رکیں گے ، اگر تم ان کی پیروی کرو گے ، تو وہ تمہیں پس پشت ڈال دیں گے اور اگر تم ان سے چھپنے کی کوشش کرو گے ، تو وہ تمہیں تلاش کریں گے ، اگر وہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں گے ، تو تمہارے ساتھ جھوٹ بولیں گے ، اگر تم انہیں امین بناؤ گے ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں گے ، ان کے بچے خبیث ہوں گے ، ان کے نوجوان شاطر ہوں گے اور بوڑھے نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ، اُن کے حوالے سے عزت حاصل کرنا ، درحقیقت ذلت ہو گا اور ان کے پاس ، جو ( مال وغیرہ ) موجود ہے ، اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا ، غربت ہو گی ، ان کے درمیان بردبار شخص گمراہ ہو گا ، ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے والا شخص تہمت یافتہ ہو گا ، ان کے درمیان مؤمن کمزور ہو گا ، ان کے درمیان فاسق کو نمایاں حیثیت حاصل ہو گی ، ان کے درمیان سنت ، بدعت ہو گی اور ان کے درمیان بدعت ، سنت ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ان میں سے بدترین لوگوں کو مسلط کر دے گا ، پھر ان کے نیک لوگ دعا کریں گے ، لیکن وہ قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشاپوری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12240
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (869) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11169)»
حدیث نمبر: 12241
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ظَهَرَ الْقَوْلُ وَخُزِنَ الْعَمَلُ وَاخْتَلَفَتِ الْأَلْسُنُ وَتَبَاغَضَتِ الْقُلُوبُ وَقَطَعَ كُلُّ ذِي رَحِمٍ رَحِمَهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قول ظاہر ہو جائے ، اور عمل کو چھپا لیا جائے اور زبانوں میں اختلاف آ جائے اور دل ایک دوسرے سے بغض رکھنے لگیں اور ہر رشتہ دار اپنی رشتہ داری کے حقوق پامال کرنے لگے ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے گا ، انہیں بہرہ کر دے گا اور اُن کی بینائی ختم کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6170)»
حدیث نمبر: 12242
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ هُمْ ذِئَابٌ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذِئْبًا أَكَلَتْهُ الذِّئَابُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ بھیڑیے ہوں گے اور جو شخص بھیٹریا نہیں ہو گا ، تو بھیڑیے اُسے کھا لیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف