مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ دَاهَنَ وَسَكَتَ عَنِ الْحَقِّ وَأَهْلِ زَمَانِهِمْ . باب: جو شخص مداھنت کرے اور حق سے خاموش رہے ، اور اس کے اہل زمانہ کا بیان
حدیث نمبر: 12239
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَبِرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو کھلے عام ( گناہ ) کرنے والے ہوں گے اور پوشیدہ طور پر ( گناہ کرنے ) کے دشمن ہوں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیونکہ وہ ایک دوسرے سے رغبت رکھتے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ڈرتے بھی ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔