مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ . باب: اچھی طرح وضو کرنا
حدیث نمبر: 1224
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِكَفَّارَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ كُلُّهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں خطاؤں کا کفارہ بننے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، زیادہ قدم اٹھا کر مسجد کی طرف جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔