مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ . باب: اچھی طرح وضو کرنا
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ فَقَالَ : " فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبُرَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ وَكِيعٌ . ¤طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : ملاء اعلیٰ کس بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کفارات اور درجات کے بارے میں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا اور رات میں اُس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، اور جہاں تک کفارات کا تعلق ہے ، تو وہ سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ، باجماعت نماز کے لیے ( زیادہ دور سے ) چل کر جانا ، اور ایک نماز کے بعد ، دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، وکیع نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔