مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
حدیث نمبر: 12231
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَمَنَّوْنَ فِيهِ الدَّجَّالَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، مِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " مِمَّا يَلْقَوْنَ مِنَ الْعَنَاءِ وَالْعَنَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں وہ لوگ دجال کی آرزو کریں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ قربان ہوں ، اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ ان لوگوں کو یکے بعد دیگرے اتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔