حدیث نمبر: 12230
وَعَنْ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ : لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمْلَى عَلَيَّ ، فَكَتَبْتُ بِيَدِي ، فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا ، حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ - أَوْ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ - وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَاحُشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ وَحَتَّى يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَأَبُو سَبْرَةَ هَذَا اسْمُهُ : سَالِمُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوسبرہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے مجھے وہ احادیث بیان کیں ، جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں ، اور وہ روایات مجھے املاء کروائیں ، میں نے اپنے ہاتھ سے روایات نوٹ کیں اور کوئی ایک حرف زائد نہیں کیا اور کوئی حرف کم نہیں کیا ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ فحاشی کو پسند نہیں کرتا ہے ، وہ فحاشی والے شخص اور فحش گفتگو کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک فحاشی اور فحش گفتگو اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا اور برا پڑوس ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ خائن شخص کو امین بنایا جائے گا اور امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، ابوسبرہ ( نامی راوی ) کا نام سالم بن سبرہ ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12230
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (162/2)»