مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ . باب: اچھی طرح وضو کرنا
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُشْرِقَ اللَّوْنِ يُعْرَفُ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ فَقُلْتُ : يَا رَبِّي ، فِي الْكَفَّارَاتِ . قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ : إِبْلَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ عَلَى الْكَرِيهَاتِ ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الصَّلَوَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَفِي التَّعْبِيرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو آپ کا رنگ چمک رہا تھا اور آپ کے چہرے سے خوشی کے آثار نمایاں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کو بہترین صورت میں دیکھا ، اُس نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو ؟ ملاء اعلیٰ کس بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : اے میرے پروردگار ! کفارات کے بارے میں ، اُس نے فرمایا : کفارات کیا ہیں ؟ میں نے جواب دیا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، پیدل چل کر نماز کے لیے جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبداللہ بن ابراہیم بن حسین نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث ” نماز کا انتظار کرنے “ سے متعلق باب میں اور ” تعبیر “ سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔