حدیث نمبر: 121
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْمُنْتَفِقِ قَالَ : وُصِفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَبْتُهُ بِمَكَّةَ ، فَقِيلَ لِي : هُوَ بِمِنًى ، فَطَلَبْتُهُ بِمِنًى ، فَقِيلَ لِي : هُوَ بِعَرَفَاتٍ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ . قَالَ : فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : بِزِمَامِهَا . قَالَ : هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ - حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَيْنَا . قَالَ : فَمَا قَرَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : مَا غَيَّرَ عَلَيَّ ، هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ - قَالَ : قُلْتُ : ثِنَتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا : مَا يُنْجِينِي مِنَ النَّارِ ؟ وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ . قَالَ : " إِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ ، لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ ، فَاعْقِلْ عَنِّي إِذًا : اعْبُدِ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ تَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین

قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ، جن کا نام ابن مخفق ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیا گیا ، میں نے مکہ میں آپ کو تلاش کیا ، تو مجھے بتایا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں ہیں ، میں نے منیٰ میں آپ کو تلاش کیا ، تو مجھے بتایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ہیں ، جب میں آپ کے پاس پہنچا ، تو ہجوم میں سے گزرتا ہوا ، آپ کے پاس آیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ لی ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، یہاں تک کہ ہماری سواریوں کی گردنیں ، ایک دوسرے سے مل گئیں ، لیکن نہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا ، اور نہ ہی پرے کیا ، میں نے عرض کی : میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ، کیا چیز مجھے جہنم سے نجات دلوا سکتی ہے ؟ اور کیا چیز مجھے جنت میں داخل کروا سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا ، پھر اپنا سر جھکایا ، پھر میری طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : تم نے مختصر سوال کیا ہے ، لیکن یہ بڑا ( اہم ) اور طویل ( سوال ) ہے ، تم میری یہ بات یاد رکھنا ! تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، فرض نماز ادا کرو ، فرض زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، جس چیز کے بارے میں تم یہ پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ اُس طرح کا سلوک کریں ، تو تم بھی اُن کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرو ، اور جس چیز کے بارے میں تمہیں یہ ناپسند ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرنا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سواری کا راستہ چھوڑ دو ! ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوعقیل ۔ یشکری ہے ، میں نے اُس کے بیٹے مغیرہ بن عبداللہ کے علاوہ ، اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 121
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 383/6 اورده المؤلف فى زوائد المسند 35»