مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا . باب: اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا
حدیث نمبر: 12193
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُصْلِحُونَ عِنْدَ فَسَادِ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَكْرِ بْنِ سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا ، اور یہ اپنے آغاز کی طرح عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو ( دوسرے ) لوگوں کے فساد کے وقت ٹھیک رہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بکر بن سلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔