حدیث نمبر: 12194
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُصْلِحُونَ حِينَ تَفْسَدُ النَّاسُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ، راوی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( دوسرے ) لوگوں کے فساد کے وقت جو ٹھیک رہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف