مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا . باب: اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بِسَنَدٍ وَاحِدٍ فِي بَابِ افْتِرَاقِ الْأُمَمِ قَبْلَ هَذَا بِكُرَّاسَةٍ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، جیسے آغاز میں تھا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تو غریب لوگوں کے لے مبارکباد ہے ۔ “ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے چار صحابہ کرام کی نقل کردہ حدیث جو ایک سند کے ساتھ منقول ہے ، وہ اس باب میں گزر چکی ہے ، جو امت کے افتراق سے متعلق باب ہے اور وہ کچھ پہلے گزری ہے ۔