مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا . باب: اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ : " طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . فَقِيلَ : مَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أُنَاسٌ صَالِحُونَ فِي أُنَاسٍ سُوءٍ ، كَثِيرٌ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : " أُنَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ " ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا ، اس وقت ہم آپ کے پاس موجود تھے ، آپ نے فرمایا : غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نیک لوگ جو بہت سے برے لوگوں کے درمیان موجود ہوں گے ، اور ان کی نافرمانی کرنے والے ، اُن کی اطاعت کرنے والوں سے زیادہ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ لوگ جو نیک ہوں گے اور تھوڑے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔