مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ خَشِيَ مِنْ ضَرَرٍ عَلَى غَيْرِهِ وَعَلَى نَفْسِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی اور کو ، یا خود کو ضرر پہنچنے کے اندیشے کا شکار ہو
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ ، فَذَكَرَ كَلَامًا أَنْكَرْتُهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُغَيِّرَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ جَيِّدٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرِ ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ ، رَوَى عَنْ جَمَاعَةٍ وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، اس نے ایسا کلام ذکر کیا ، جسے میں نے منکر قرار دیا ، پہلے میں نے اسے روکنے کا ارادہ کیا ، پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا : ” مومن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود کو ذلت کا شکار کرے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے خود کو ذلت کا شکار کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ وہ خود کو ایسی آزمائش کے لئے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی معجم کبیر میں جو سند ہے ، وہ عمدہ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی بن ایوب ضریر کا معاملہ مختلف ہے ، خطیب نے اس کا ذکر کیا ہے اس نے ایک جماعت سے روایات نقل کی ہیں اور ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔