حدیث نمبر: 12160
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذَا الدِّينِ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ إِقْبَالِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَفْقَهَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَاسِقُ أَوِ الْفَاسِقَانِ ذَلِيلَيْنِ ، فَهُمَا إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا . وَإِنَّ مِنْ إِدْبَارِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَجْفُوَا الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا فَلَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَقِيهُ وَالْفَقِيهَانِ فَهُمَا ذَلِيلَانِ ، إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا . وَيَلْعَنُ آخِرُ هَذَا الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا ، أَلَا وَعَلَيْهِمْ حَلَّتِ اللَّعْنَةُ حَتَّى يَشْرَبُوا الْخَمْرَ عَلَانِيَةً ، حَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْقَوْمِ فَيَقُومُ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيَرْفَعُ بِذَيْلِهَا كَمَا يَرْفَعُ بِذَنَبِ النَّعْجَةِ ، فَقَائِلٌ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ : أَلَا وَارَيْتَهَا وَرَاءَ هَذَا الْحَائِطِ ، فَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِيكُمْ ، فَمَنْ أَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِمَّنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَأَطَاعَنِي وَبَايَعَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس دین کی ایک آمد ہے اور ایک رخصتی ہے ، خبردار ! اس دین کی آمد میں یہ بات شامل ہے کہ پورا قبیلہ دین کا علم حاصل کرے گا ، یہاں تک کہ ان میں ایک یا دو فاسق رہ جائیں گے جو دونوں کمتر ہوں گے اور وہ دونوں اگر بات چیت کریں گے ، تو دب کے کریں گے اور مجبور ہو کے کریں گے ، اور اس دین کی رخصتی میں یہ بات شامل ہے کہ پورے کا پورا قبیلہ زیادتی کرنے والا ہو گا ، ان میں ایک یا دو عالم ہوں گے اور وہ دونوں کمتر ہوں گے ، اگر وہ بات چیت کریں گے ، تو دب کر کریں گے اور مجبور ہو کر کریں گے اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، خبردار ! ان لوگوں پر لعنت حلال ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ علانیہ طور پر شراب پیئیں گے ، یہاں تک کہ کوئی عورت کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے گی ، تو ان لوگوں میں سے کوئی اُٹھ کر اس عورت کے پاس جائے گا اور اس کے دامن کو یوں اٹھائے گا ، جس طرح وہ بکری کی دم کو اٹھاتا ہے ، اس دن کوئی شخص یہ کہے : تم اسے اس دیوار کے پیچھے لے جاؤ ، تو ان لوگوں کے درمیان اس وقت اس شخص کی مثال وہی ہو گی ، جو تمہارے درمیان ابوبکر و عمر کی ہے ، اس وقت جو شخص نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا ، اُسے ان لوگوں میں سے پچاس افراد کی مانند اجر ملے گا ، جنہوں نے مجھے دیکھا ، مجھ پر ایمان لائے ، میری اطاعت کی اور میری بیعت کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12160
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً