مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ وُجُوبِ إِنْكَارِ الْمُنْكَرِ . باب: منکر کے انکار کا واجب ہونا
حدیث نمبر: 12154
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ : أَنْتَ الظَّالِمُ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ إِسْنَادُ أَحْمَدَ إِلَّا أَنَّهُ وَقَعَ فِيهِ فِي الْأَصْلِ غَلَطٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم سے اس حوالے سے خوف زدہ ہے کہ اسے یہ کہے : تم ظالم ہو ، تو پھر ان کی رخصتی کا وقت آ گیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کی سند کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، البتہ اس کی اصل میں غلطی پائی جاتی ہے ۔