مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ وُجُوبِ إِنْكَارِ الْمُنْكَرِ . باب: منکر کے انکار کا واجب ہونا
عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا عَمِلَ فِيهِمُ الْعَامِلُ الْخَطِيئَةَ فَنَهَاهُ النَّاهِي تَعْذِيرًا ، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ جَالَسَهُ وَوَاكَلَهُ وَشَارَبَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَرَهُ عَلَى خَطِيئَةٍ بِالْأَمْسِ ، فَلَمَّا رَأَى اللَّهُ - تَعَالَى - ذَلِكَ مِنْهُمْ ضَرَبَ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلْتَنْهُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى أَيْدِي الْمُسِيءِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا ، أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ وَيَلْعَنُكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم سے پہلے بنی اسرائیل میں جب کوئی عمل کرنے والا ، کوئی برا کام کرتا تھا ، تو کوئی روکنے والا اسے تعزیر کے طور پر روکتا تھا ، لیکن اگلے دن روکنے والا شخص اُس کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا ، اس کے ساتھ کھاتا پیتا تھا ، یوں جیسے اس نے گزشتہ دن اس کی برائی دیکھی ہی نہیں ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی یہ صورت حال دیکھی ، تو ان کے دل ایک دوسرے کی مانند کر دیے ، اور سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی ان پر لعنت کی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور حد سے تجاوز کیا تھا ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ، اور برا کام کرنے والا ہاتھ ضرور پکڑو گے اور اسے حق کی پیروی کرنے پر ضرور مجبور کرو گے ، ورنہ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو ایک جیسا کر دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا ، جس طرح اس نے اُن لوگوں پر لعنت کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔