حدیث نمبر: 1214
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَرَّبْنَا لَهُ طَعَامًا فَأَكَلَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمُكَفِّرَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُحْتَمَلٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن عبداللہ بن کعب ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ) بیعت کرنے والی ایک خاتون کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بھی تھے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کھانا کھایا ، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی پیش کیا ، تو آپ نے وضو کیا ، پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کو ختم کرنے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ( یعنی آپ بتائیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( طبیعت پر ) ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، زیادہ قدموں کے ساتھ مساجد کی طرف جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں احتمال پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ محتمل