مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَفِيمَنْ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ . باب: نیکی کا حکم دینے برائی سے منع کرنے کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ مُوسَى قَالَ : يَا رَبِّ ، أَخْبِرْنِي بِأَكْرَمِ خَلْقِكَ عَلَيْكَ . فَقَالَ : الَّذِي يُسْرِعُ فِي هَوَايَ إِسْرَاعَ النَّسْرِ إِلَى مَثْوَاهُ ، وَالَّذِي تَكَلَّفَ بِعِبَادِي الصَّالِحِينَ كَمَا يُكَلَّفُ الصَّبِيُّ بِالنَّاسِ ، وَالَّذِي يَغْضَبُ إِذَا انْتُهِكَتْ مَحَارِمِي غَضَبَ النَّمِرِ لِنَفْسِهِ ، فَإِنَّ النَّمِرَ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُبَالِ أَقَلَّ النَّاسُ أَمْ كَثُرُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے بتا کہ تیرے نزدیک تیری مخلوق میں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو میرے حکم کی پیروی کے لئے اس طرح تیزی کرتا ہے ، جس طرح کوئی عقاب اپنے ٹھکانے کی طرف تیزی سے جاتا ہے اور وہ شخص جو میرے نیک بندوں کی بہ تکلف پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جس طرح بچے کو لوگوں کی پیروی کروائی جاتی ہے ، اور وہ شخص کہ جب میری کسی حرمت کی پامالی ہو رہی ہو ، تو وہ یوں غضبناک ہوتا ہے ، جس طرح کوئی چیتا اپنی ذات کے لئے غضبناک ہوتا ہے ، کیونکہ جب چیتا غضبناک ہو ، تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کم ہیں یا زیادہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔