مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَفِيمَنْ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ . باب: نیکی کا حکم دینے برائی سے منع کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ وَيُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں کا خوف ، تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے ہرگز نہ روکے کہ وہ شخص جب حق کو دیکھے ، تو حق کے مطابق بات کرے ، یا وہ شخص کسی بڑے شخص ( یعنی حکمران ) کو نصیحت کرے ، کیونکہ یہ چیز نہ تو موت کو قریب کرتی ہے ، اور نہ ہی رزق کو دور کرتی ہے ، آدمی کو حق کے مطابق بات کہنی چاہیے اور بڑے ( یعنی حکمران ) کو نصیحت کرنی چاہیے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔