حدیث نمبر: 12126
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنِّي ، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ ، وَأَوْصَانِي بِقَوْلِ الْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَوْصَانِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا ، وَأَوْصَانِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : وَأَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والی ملامت ، مجھ پر اثر انداز نہ ہو ، اور میں اُس کا جائزہ لوں کہ جو شخص مجھ سے نیچے ہے ، اس کی طرف نہ دیکھوں ، جو مجھ سے اوپر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسکینوں کے ساتھ محبت رکھنے اور ان کے ساتھ رہنے کی تلقین کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حق بات کہنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور آپ نے مجھے صلہ رحمی کرنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ دوسرا شخص پیٹھ پھیر رہا ہو ، اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ، اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم پڑھتا رہوں گا ، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن ابومنذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح