حدیث نمبر: 12125
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ حَدَّثَ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ : اصْطَحَبَ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ وَكَعْبٌ حَتَّى إِذَا بَلَغَا صِفِّينَ وَقَفَ كَعْبٌ سَاعَةً فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، لَيُهْرَقَنَّ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ شَيْءٌ لَا يُهْرَاقُ بِبُقْعَةٍ مِنَ الْأَرْضِ . فَغَضِبَ قَيْسٌ ، ثُمَّ قَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ مَا هَذَا ؟ هَذَا مِنَ الْغَيْبِ الَّذِي اسْتَأْثَرَ اللَّهُ بِهِ . فَقَالَ كَعْبٌ : مَا مِنَ الْأَرْضِ شِبْرٌ إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى مَا يَكُونُ عَلَيْهِ وَمَا يَخْرُجُ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ : وَمَنْ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ، وَمَا تَعْرِفُهُ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بِلَادِكَ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ . قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ خَرَشَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أُبَايِعُكَ عَلَى مَا جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا قَيْسُ ، عَسَى إِنْ مَدَّ بِكَ الدَّهْرُ أَنْ يَلِيَكَ بَعْدِي وُلَاةٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُولَ بِالْحَقِّ مَعَهُمْ " . قَالَ قَيْسٌ : وَاللَّهِ لَا أُبَايِعُكَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا وَفَيْتُ لَكَ بِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذًا لَا يَضُرُّكَ شَيْءٌ " . قَالَ : فَكَانَ قَيْسٌ يَعِيبُ عَلَى زِيَادٍ وَابْنِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي تَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ مَنْ يَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ ، مَنْ تَرَكَ الْعَمَلَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین

یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : محمد بن یزید بن ابوزید نے یہ بات بیان کی ہے : ” ایک مرتبہ قیس بن خرشہ اور کعب ایک ساتھ تھئے ، یہ دونوں صفین کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں کعب گھڑی بھر کے لئے ٹھہر گئے اور بولے : اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس مقام پر مسلمانوں کا خون ضرور بہایا جائے گا کہ اتنا خون زمین کے کسی اور حصے میں نہیں بہایا جائے گا ، تو قیس غصے میں آ گئے اور بولے : اے ابواسحاق ! تمہیں اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ تو وہ غیب ہے ، جس کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا ہے ، تو کعب نے فرمایا : روئے زمین کا کوئی ایک بالشت ایسا نہیں ہے ، جس کا ذکر اس ” تورات “ میں نہ ہو ، جس کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا ، زمین پر جو کچھ ہو گا اور جو قیامت تک اس میں سے نکلے گا ( اُن سب کا ذکر اس میں ہے ) ۔ محمد بن یزید نے دریافت کیا : قیس بن خرشہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں ، تم انہیں نہیں جانتے ، حالانکہ وہ تمہارے علاقے کے آدمی ہیں ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں انہیں نہیں جانتا ، تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا قیس بن خرشہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، انہوں نے عرض کی : میں اس چیز پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ، اور اس بات پر بھی بیعت کرنے کے لئے کہ میں حق بات کہوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قیس ! ہو سکتا ہے کہ جب طویل زمانہ گزر جائے اور میرے بعد ایسے لوگ حکمران بن جائیں کہ تم ان کے سامنے حق نہ کہہ سکو ۔ “ قیس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں کسی چیز پر آپ کی بیعت نہیں کروں گا ، مگر یہ کہ آپ کی خاطر اسے پورا بھی کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی صورت میں تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ ، زیاد اور اُس کے بیٹے عبیداللہ بن زیاد پر تنقید کیا کرتے تھے ، اس نے انہیں پیغام بھیج کر بلایا اور کہا: کیا تم وہ شخص ہو کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو ؟ تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ بات بتا دیتا ہوں کہ کون شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، یہ وہ شخص ہے جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کو ترک کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (345/18)»