مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي اتِّبَاعِ سُنَنِ مَنْ مَضَى . باب: پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمْ أَشْبَهُ الْأُمَمِ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، لَتَرْكَبُنَّ طَرِيقَهُمْ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ ، حَتَّى لَا يَكُونَ فِيهِمْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ فِيكُمْ مِثْلُهُ ، حَتَّى أَنَّ الْقَوْمَ لَتَمُرُّ عَلَيْهِمُ الْمَرْأَةُ فَيَقُومُ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيُجَامِعُهَا ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ إلَيهِمْ وَيَضْحَكُونَ إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ بنی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی امت ہو ، اور تم ان کے طریقوں پر یوں عمل کرو گے ، جس طرح تیر کا ایک پر دوسرے کے برابر ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ان میں جو چیز بھی تھی ، وہ تمہارے درمیان بھی اس کی مانند ہو گی ، یہاں تک کہ کچھ لوگوں کے پاس سے ایک عورت گزرے گی ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص اُٹھ کر اس عورت کے پاس جائے گا اور اس کے ساتھ صحبت کرے گا ، اور پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ جائے گا ، وہ شخص انہیں دیکھ کے ہنس رہا ہو گا اور وہ لوگ اُسے دیکھ کے ہنس رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔