مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي اتِّبَاعِ سُنَنِ مَنْ مَضَى . باب: پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ وَبَاعًا بِبَاعٍ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ دَخَلَ جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ ، وَحَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ جَامَعَ أُمَّهُ لَفَعَلْتُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور عمل کرو گے ، جو بالشت در بالشت ، ذراع در ذراع ( درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک کی مقدار کو ” ذراع “ کہتے ہیں ) اور باع در باع ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کی مقدار کو ” باع“ کہتے ہیں ) ہو گا ، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص گوہ کے بل میں داخل ہوا تھا ، تو تم بھی داخل ہو جاؤ گے ، یہاں تک کہ ان میں سے اگر کسی شخص نے اپنی ماں کے ساتھ صحبت کی تھی ، تو تم بھی ایسا کرو گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔