مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَئِتَّلِجُ ؟ فَقَالَ : - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَادِمِهِ : " اخْرُجِي إِلَيْهِ ، فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ ، فَقُولِي لَهُ : فَلْيَقُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَدْخُلُ ؟ " قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَدْخُلُ ؟ قَالَ : فَأَذِنَ ، - أَوْ قَالَ : فَدَخَلْتُ - فَقُلْتُ : بِمَا أَتَيْتَنَا ؟ قَالَ : " لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ، وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا ، وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ ، وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ " . قَالَ : فَقَالَ : هَلْ بَقِيَ مِنَ الْغَيْبِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ ؟ قَالَ : " قَدْ عَلِمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرًا كَثِيرًا ، وَإِنَّ مِنَ الْغَيْبِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْخَمْسَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ . ¤بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے ہوئے ، عرض کی : کیا میں اندر آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے فرمایا : تم باہر اس کے پاس جاؤ ، اسے صحیح طریقے سے اجازت لینا نہیں آتا ، تم اس سے کہو : کہ وہ یہ کہے : السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سن لیا ، تو میں نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ، تو میں اندر آ گیا ، میں نے عرض کی : آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم لوگوں کے پاس صرف بھلائی لے کر آیا ہوں ، میں تمہارے پاس ( یہ احکام ) لے کر آیا ہوں کہ تم لوگ صرف ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، ( یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور تم لوگ لات اور عزیٰ کو چھوڑ دو ، اور تم لوگ رات اور دن میں پانچ نمازیں ادا کرو ، اور تم سال میں ایک ماہ روزے رکھو ، اور تم لوگ بیت اللہ کا حج کرو ، اور اپنے خوشحال لوگوں سے مال ( یعنی زکوٰۃ ) لے کر اپنے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دو ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : کیا غیب میں سے کوئی ایسی چیز باقی رہ گئی ہے ، جس کا آپ کو علم نہ ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی بہت سی بھلائی کا علم رکھتا ہے ، اور غیب میں سے کچھ امور ایسے ہیں ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اُن میں پانچ چیزیں یہ ہیں : ( جن کا ذکر قرآن میں ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور وہ رحموں میں جو کچھ ہے ، اس کے بارے میں علم رکھتا ہے ، کوئی یہ نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا ، اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا کچھ حصہ امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ اور ائمہ ہیں ۔