مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسُّكُوتِ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ . باب: اس چیز کا بیان کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان باہمی طور پر ہوئی اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 11973
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ ، وَفِيهِ مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو ( اُن پر تنقید کرنے کے حوالے سے ) رک جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل روایت کے طور پر کتاب القدر میں گزر چکی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسہر بن عبدالملک ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔