مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یا وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگو “۔
وَعَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَجَلَسَ يَوْمًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ : أَنِ اسْكُتُوا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوحَى إِلَيْهِ . فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلْتَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ ، سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً . سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَكُمْ بِعَذَابٍ عَذَّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُكُمْ ، فَأَعْطَانِيهِمَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا ، وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَمَنَعَنِيهَا " ¤ قُلْتُ لَهُ : أَبُوكَ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ الْعَشَرِ الْأَصَابِعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤نافع بن خالد خزاعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے اور لوگ آپ کے اردگرد ہوتے تھے ، تو آپ مختصر نماز ادا کرتے تھے ، جس کے رکوع اور سجود مکمل ہوتے تھے ، ایک دن آپ نے نماز ادا کرتے ہوئے طویل سجدہ کیا ، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ خاموش رہو ! شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہو رہی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! آج آپ کافی دیر تک بیٹھے رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک ایسی نماز تھی ، جس میں رغبت بھی تھی اور خوف بھی تھا ، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک چیز کے حوالے سے مجھے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ تم لوگوں کو ایسے عذاب کا شکار نہ کرے ، جیسا عذاب اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا ، اور میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ تمہارے اوپر عمومی طور پر دشمن کو مسلط نہ کرے کہ وہ ( میری امت کو ) مکمل طور پر ختم کر دے ، تو اس نے یہ دونوں چیزیں مجھے عطا کر دیں ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو اُس نے اس چیز کے حوالے سے مجھے انکار کر دیا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے اُن سے دریافت کیا : کیا آپ کے والد نے خود یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی مرتبہ سنی ہے ، جتنی ان کے انگلیوں کی تعداد ہے ، یعنی دس مرتبہ سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، نافع بن خالد کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے اور کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔