مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یا وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگو “۔
وَعَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ثَلَاثًا ، فَأُعْطِيَ اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَهُ وَاحِدَةً . سَأَلَهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتَهُ جُوعًا ، وَأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا ، فَأُعْطِيهِمَا ، وَسَأَلَهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، فَمُنِعَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنو معاویہ میں تین چیزیں مانگیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں دیدی گئیں اور ایک چیز سے منع کر دیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بھوک کے ذریعے ہلاک نہ کرے ، اور یہ کہ وہ ان پر دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو یہ دونوں چیزیں آپ کو دیدی گئیں ، آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان کے درمیان قتل و غارت گری نہ رکھے ، تو اس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔