مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ تَبْلُغْهُ الدَّعْوَةُ مِمَّنْ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: جس شخص تم دعوت نہ پہنچی ہو ، یعنی جس کا انتقال زمانہ فترت میں ہو گیا ہو یا اس کے علاوہ ( کوئی اور وجہ ) ہو
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْمَمْسُوخِ عَقْلًا ، وَبِالْهَالِكِ فِي الْفَتْرَةِ ، وَبِالْهَالِكِ صَغِيرًا ، فَيَقُولُ الْمَمْسُوخُ عَقْلًا : يَا رَبِّ لَوْ آتَيْتَنِي عَقْلًا مَا كَانَ مَنْ آتَيْتَهُ عَقْلًا بِأَسْعَدَ بِعَقْلِهِ مِنِّي ، وَيَقُولُ الْهَالِكُ فِي الْفَتْرَةِ : يَا رَبِّ لَوْ أَتَانِي مِنْكَ عَهْدٌ مَا كَانَ مَنْ أَتَاهُ مِنْكَ عَهْدٌ بِأَسْعَدَ بِعَهْدِهِ مِنِّي ، وَيَقُولُ الْهَالِكُ صَغِيرًا : لَوْ آتَيْتَنِي عُمُرًا مَا كَانَ مَنْ آتَيْتَهُ عُمُرًا بِأَسْعَدَ مِنْ عُمُرِهِ مِنِّي ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنِّي آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ فَتُطِيعُونِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ وَعِزَّتِكَ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَادْخُلُوا النَّارَ ، فَلَوْ دَخَلُوهَا مَا ضَرَّتْهُمْ ، فَيَخْرُجُ عَلَيْهِمْ قَوَابِسُ يَظُنُّونَ أَنَّهَا قَدْ أَهْلَكَتْ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ فَيَرْجِعُونَ سِرَاعًا فَيَقُولُونَ : خَرَجْنَا يَا رَبِّ نُرِيدُ دُخُولَهَا ، فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا قَوَابِسُ ظَنَنَّا أَنَّهَا قَدْ أَهْلَكَتْ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ ، فَيَأْمُرُهُمُ الثَّانِيَةَ فَيَرْجِعُونَ كَذَلِكَ يَقُولُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قَبْلَ أَنْ تُخْلَقُوا عَلِمْتُ مَا أَنْتُمْ عَامِلُونَ ، وَعَلَى عِلْمِي خَلَقْتُكُمْ ، وَإِلَى عِلْمِي تَصِيرُونَ فَتَأْخُذُهُمُ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ عِنْدَ الْبُخَارِيِّ وَغَيْرِهِ ، وَرُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ : كَانَ يَتْبَعُ السُّلْطَانَ وَكَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اس شخص کو لایا جائے گا ، جس کی عقل نہیں تھی ( یعنی پاگل کو لایا جائے گا ) اور زمانہ فترت میں فوت ہونے والے شخص کو لایا جائے گا اور بچپن میں ہلاک ہونے والے کو لایا جائے گا ، تو پاگل شخص کہے گا : اگر تو نے مجھے عقل دی ہوتی تو جسے تو نے عقل دی ہے وہ اپنی عقل کے حساب سے مجھ سے زیادہ سعادت مند نہ ہوتا ، زمانہ فترت میں مرنے والا کہے گا : اے میرے پروردگار ! اگر تیری طرف سے میرے پاس کوئی عہد آیا ہوتا ، تو اس عہد کے حوالے سے وہ شخص مجھ سے زیادہ سعادت مند نہیں ہونا تھا ، جس کے پاس تیری طرف سے عہد آیا تھا ، بچپن میں فوت ہونے والا شخص کہے گا : اگر تو نے مجھے اتنی عمر دی ہوتی ، جتنی عمر تو نے دوسرے لوگوں کو دی تھی ، تو اپنی عمر کے حوالے سے کسی نے مجھ سے زیادہ سعادت مند نہیں ہونا تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : میں تمہیں ایک حکم دیتا ہوں ، کیا تم میری اطاعت کرو گے ؟ وہ عرض کریں گے : جی ہاں ! تیری عزت کی قسم ! تو پروردگار فرمائے گا : تم جاؤ اور جہنم میں داخل ہو جاؤ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ لوگ جہنم میں داخل ہو جائیں ، تو جہنم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، پھر ان لوگوں کے سامنے آگ کے بھبکے آئیں گے اور وہ لوگ یہ گمان کریں گے کہ وہ ( بھبکے ) انہیں ہلاکت کا شکار کر دیں گے ، تو وہ لوگ تیزی سے واپس آ جائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم اس میں داخل ہونے کے لئے نکلے تھے ، لیکن پھر ہمارے سامنے آگ کے شعلے نکل کر آئے ، تو ہم نے یہ گمان کیا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ انہیں حکم دے گا ، وہ اس سے واپس آ جائیں گے ، اور پہلے قول کی مانند کہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” تم لوگوں کے تخلیق ہونے سے پہلے مجھے یہ بات پتہ تھی کہ تم لوگوں نے کیا عمل کرتے ہیں ؟ اور اپنے علم کی بنیاد پر میں نے تمہیں پیدا کیا تھا اور میرے علم کی بنیاد پر تمہارا انجام ہو گا ، تو جہنم انہیں اپنی لپیٹ میں لے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کے نزدیک متروک ہے ، اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ، محمد بن مبارک صوری کہتے ہیں : یہ حکمرانوں کے پاس آیا جایا کرتا تھا ، ویسے یہ صدوق ہے ، معجم کبیر کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔