حدیث نمبر: 11938
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ - قَالَ : " يُؤْتَى بِالْهَالِكِ فِي الْفَتْرَةِ ، وَالْمَعْتُوهِ ، وَالْمَوْلُودِ ، فَيَقُولُ الْهَالِكُ فِي الْفَتْرَةِ : لَمْ يَأْتِنِي كِتَابٌ وَلَا رَسُولٌ ، وَيَقُولُ الْمَعْتُوهُ : أَيْ رَبِّ لَمْ تَجْعَلْ لِي عَقْلًا أَعْقِلُ بِهِ خَيْرًا وَلَا شَرًّا ، وَيَقُولُ الْمَوْلُودُ : لَمْ أُدْرِكِ الْعَمَلَ " ، قَالَ : " فَيُرْفَعُ لَهُمْ نَارٌ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : رُدُّوهَا - أَوْ قَالَ : ادْخُلُوهَا - فَيَدْخُلُهَا مَنْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ سَعِيدًا أَنْ لَوْ أَدْرَكَ الْعَمَلَ " ، قَالَ : " وَيُمْسِكُ عَنْهَا مَنْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ شَقِيًّا أَنْ لَوْ أَدْرَكَ الْعَمَلَ ، فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِيَّايَ عَصَيْتُمْ ، فَكَيْفَ بِرُسُلِي بِالْغَيْبِ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زمانہ فترت میں فوت ہونے والے شخص کو ، پاگل شخص کو ، کمسنی میں فوت ہو جانے والے شخص کو لایا جائے گا ، زمانہ فترت میں فوت ہونے والا شخص کہے گا : میرے پاس نہ تو کوئی کتاب آئی اور نہ ہی رسول آیا ، پاگل شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میرے لئے عقل ہی نہیں بنائی کہ میں اس کے ذریعے بھلائی یا برائی کو سمجھ سکتا ، کمسنی میں فوت ہونے والا ( بچہ ) کہے گا : مجھے عمل کا زمانہ ہی نہیں ملا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ان لوگوں کے سامنے جہنم آئے گی ، تو ان سے کہا: جائے گا : تم اس میں داخل ہو جاؤ ! تو جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہو گی کہ اگر اسے عمل کا موقع ملتا ، تو وہ سعادت مند ہوتا ، تو وہ شخص اس میں داخل ہو جائے گا اور جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ وہ بدنصیب ہو گا ، اگر اسے عمل کا موقع ملا ہوتا ، تو وہ شخص اس میں داخل ہونے سے رک جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم لوگ میری نافرمانی کر رہے ہو ، تو غیب کے عالم میں میرے رسولوں کے ساتھ تم نے کیا کرنا تھا ؟ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11938
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2176)»