حدیث نمبر: 11925
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ أَمْرَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قَاتَلَ الرَّجُلُ فَأَبْلَى ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَأَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَحَرَ نَفْسَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَدَقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ فَنَادِ : إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : رَجُلُ سُوءٍ كَذَّابٌ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنمی ہے ، لوگ اُس کے معاملے کا انتظار کرنے لگے ، جب غزوہ حنین کا موقع آیا ، تو اس شخص نے بھرپور لڑائی کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جہنمی ہے ، پھر وہ شخص زخمی ہو گیا ۔ اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمان کو صحیح ظاہر کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُٹھو ! اور یہ اعلان کرو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی گنہگار شخص کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد واسطی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور وہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ ایک برا کذاب شخص ہے انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ بھی
یہ روایت نقل کی ہے ، جس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11925
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (83/19)»