حدیث نمبر: 11924
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " كِتَابٌ كَتَبَهُ اللَّهُ ، فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَنْسَابِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، صَاحِبُ الْجَنَّةِ مَخْتُومٌ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَصَاحِبُ النَّارِ مَخْتُومٌ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ السَّعَادَةِ طَرِيقُ أَهْلِ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ بَلْ هُوَ مِنْهُمْ ، وَتُدْرِكُهُمُ السَّعَادَةُ فَتَسْتَنْقِذُهُمْ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ الشَّقَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، حَتَّى يُقَالَ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ بَلْ هُوَ مِنْهُمْ ، وَيُدْرِكُهُمُ الشَّقَاءُ ، مَنْ كَتَبَهُ اللَّهُ سَعِيدًا فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَعْمِلَهُ بِعَمَلٍ يُسْعِدُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا " ثَلَاثًا ، قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْقَدَرِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَافِدٍ الصَّفَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” ایک کتاب ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اسماء ، اُن کے نسب ، ان سب کے بارے میں لکھا ہے ، اس میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، جنتی شخص کے لئے اہل جنت کے عمل کی مہر لگا دی گئی ہے ، اور جہنمی شخص کے لئے اہل جہنم کے عمل کی مہر لگا دی گئی ہے ، خواہ وہ جو بھی عمل کرے ( بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ) کوئی شخص جو اہل سعادت میں سے ہوتا ہے ، وہ اہل شقاوت کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ اُن کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ، حالانکہ وہ اُن ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے اور پھر اسے خوش نصیبی لاحق ہوتی ہے اور اسے بچا لیتی ہے ، اسی طرح بدنصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا شخص سعادت مندوں کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ، حالانکہ درحقیقت اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے ، اور پھر بدنصیبی اس تک پہنچ جاتی ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں سعادت مند لکھ دیا ہے ، اللہ تعالیٰ اُسے دنیا سے نکالنے سے پہلے ، اس سے وہ عمل لے گا کہ جو اس کے مرنے سے پہلے اسے سعادت مند بنا دے گا ، خواہ وہ اس کے مرنے سے اتنی دیر پہلے ہو ، جتنا اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ، اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو تقدیر کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن وافد صفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف