مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَعْمَالِ بِالْخَوَاتِيمِ . باب: اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہو گا
وَعَنْ أَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُلَانٌ يَجْرِي فِي الْقِتَالِ ، قَالَ : " هُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ فُلَانٌ فِي عِبَادَتِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَلِينِ جَانِبِهِ فِي النَّارِ ، فَأَيْنَ نَحْنُ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ إِخْبَاتُ النِّفَاقِ وَهُوَ فِي النَّارِ " ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَفَّظُ فِي الْقِتَالِ ، كَانَ لَا يَمُرُّ بِهِ فَارِسٌ وَلَا رَاجِلٌ إِلَّا وَثَبَ عَلَيْهِ فَكَثُرَ جِرَاحُهُ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ ، قَالَ : " هُوَ فِي النَّارِ " ، فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ أَلَمُ الْجِرَاحِ أَخَذَ سَيْفَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ تُدْرِكُهُ الشِّقْوَةُ وَالسَّعَادَةُ عِنْدَ خُرُوجِ نَفَسِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا اکثم بن ابوجون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص لڑائی میں جرأت کا اظہار کر رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جہنمی ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر فلاں شخص اپنی عبادت اور بھرپور کوشش کے باوجود جہنمی ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس نے نفاق چھپایا ہوا ہے اور وہ جہنمی ہے ، راوی کہتے ہیں : جنگ کے دوران ہم اس کا خیال رکھتے رہے ، وہ جس بھی گھڑ سوار ، یا پیادہ شخص کے پاس سے گزرتا تھا ، اُس پر حملہ کر دیتا تھا ، وہ خود بھی زخمی ہو گیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جہنمی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب اس شخص کو زخموں کی تکلیف زیادہ ہو گئی ، تو اس نے اپنی تلوار لے کر سینے پر رکھی اور پھر اس پر اپنا وزن ڈالا ، یہاں تک کہ وہ تلوار پشت کی طرف سے پار ہو گئی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص بظاہر اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اس کی جان نکلنے کے وقت بدنصیبی یا خوش نصیبی اُسے لاحق ہو جاتی ہیں اور اس ( مخصوص حال ) کے مطابق ، اُس کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔