مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَعْمَالِ بِالْخَوَاتِيمِ . باب: اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہو گا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ يُكْتَبُ مُؤْمِنًا أَحْقَابًا ثُمَّ أَحْقَابًا ، ثُمَّ يَمُوتُ وَاللَّهُ عَلَيْهِ سَاخِطٌ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيُكْتَبُ كَافِرًا أَحْقَابًا ثُمَّ أَحْقَابًا ، ثُمَّ يَمُوتُ وَاللَّهُ عَنْهُ رَاضٍ ، وَمَنْ مَاتَ هَمَّازًا لَمَّازًا مُلَقِّبًا لِلنَّاسِ كَانَ عَلَامَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَسِمَهُ اللَّهُ عَلَى الْخُرْطُومِ مِنْ كِلَا الشَّفَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک بندہ ایک طویل عرصے تک مومن ہونے کے طور پر رہتا ہے ، پھر وہ ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے اور ایک بندہ ایک طویل عرصے تک کافر ہونے کے طور پر رہتا ہے اور پھر وہ ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے ، جو شخص روبرو طعنہ زنی کرنے والے اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے اور لوگوں کو ( برے ) القاب دینے والے کے عالم میں مرے ، تو اس کی مخصوص علامت قیامت کے دن یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اُس کے منہ پر ، یعنی دونوں ہونٹوں پر نشان لگا دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔