حدیث نمبر: 11922
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، وَإِنَّ الْعَبْدَ يُولَدُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِالسَّعَادَةِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ مَا كُتِبَ لَهُ فَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِالشَّقَاءِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ مَا كُتِبَ لَهُ فَيَمُوتُ سَعِيدًا " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَدِيثُهُ عَنْ قَتَادَةَ مُضْطَرِبٌ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک بندہ مومن پیدا ہوتا ہے ، مومن ہونے کے طور پر زندہ رہتا ہے اور مومن ہونے کے طور پر مر جاتا ہے ، ایک بندہ کافر پیدا ہوتا ہے ، کافر ہونے کے طور پر زندہ رہتا ہے اور کافر ہونے کے طور پر مر جاتا ہے ، ایک بندہ ایک طویل عرصے تک سعادت مندی کے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس تک وہ چیز پہنچ جاتی ہے جو اس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے ، اور وہ کافر ہونے کے طور پر مرتا ہے اور ایک بندہ ایک طویل عرصے تک بدنصیبی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے نصیب میں جو چیز لکھی ہوتی ہے وہ اس تک پہنچ جاتی ہے اور وہ شخص سعادت مند ہونے کے طور پر مرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے ، جسے ایک سے زیادہ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : قتادہ کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث مضطرب ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10542)»