حدیث نمبر: 11921
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ تَعْرِضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِّ الْجَنَّةِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا ، وَذَلِكَ لِمَا كُتِبَ لَهُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ ، ثُمَّ تَعْرِضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِّ أَهْلِ النَّارِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا ، وَذَلِكَ لِمَا كُتِبَ لَهُ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص طویل عرصے تک ، اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے لئے جنت کے راستوں میں ایک راستہ سامنے آتا ہے ، وہ اس پر عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ مر جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز اُس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے ، اور ایک شخص ایک طویل عرصے تک اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے سامنے اہل جہنم کے راستوں میں سے ایک راستہ آتا ہے اور وہ اس پر عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز اس کے نصیب میں لکھی ہوئی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (512) أخرجه البزار فى المسند (2159)»