حدیث نمبر: 11918
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِهِمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” آدمی اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے اور لوح محفوظ میں اُس کا نام اہل جہنم میں ہوتا ہے ، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت آتا ہے ، تو وہ منتقل ہو کر ، اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے ، اور پھر مر کر جہنم میں چلا جاتا ہے ، اور کوئی شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، حالانکہ لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں ہوتا ہے ، تو آدمی مرنے سے پہلے منتقل ہو کر ، اہل جنت کے سے عمل کرنے لگتا ہے ، اور اسی حالت میں مر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں حضرات کی بعض اسانید کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4668) اخرجه احمد فى المسند (107/6)»