حدیث نمبر: 11917
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تُعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَاذَا يُخْتَمُ لَهُ ، فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمُرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ لَدَخَلَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ لِيَعْمَلَ عَمَلًا سَيِّئًا ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ ؟ قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر تم کسی شخص پر حیرانگی کا اظہار نہ کرو ، جب تک تم اس بات کا جائزہ نہیں لیتے کہ اس کا خاتمہ کس صورت حال پر ہوا ہے ؟ کوئی عمل کرنے والا اپنے زندگی کے ایک طویل عرصے تک نیک عمل کرتا رہتا ہے ، اور وہ ایسا عمل ہوتا ہے کہ اگر وہ اس عمل پر مرتا ، تو وہ جنت میں داخل ہوتا اور پھر وہ منتقل ہو کر ، برا عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ، اور کوئی بندہ ایک طویل عرصے تک برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ اُس برے عمل پر مرتا ، تو جہنم میں چلا جاتا ، لیکن پھر وہ منتقل ہو کر ، نیک عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اُس سے کیسے کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اُسے نیک عمل کی توفیق عطا کرتا ہے اور پھر اسی چیز پر اُس کی جان قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3756) اخرجه احمد فى المسند (120/3)»