مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَعْمَالِ بِالْخَوَاتِيمِ . باب: اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہو گا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَابِضًا يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ فِي يَدِهِ ، فَفَتَحَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَعْدَادِهِمْ ، وَأَسْمَائِهِمْ ، وَأَحْسَابِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالسَّعِيدِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ ، ثُمَّ يُزَالُ إِلَى سَعَادَتِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ " ، وَفَتَحَ يَدَهُ الْيُسْرَى فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ النَّارِ بِأَعْدَادِهِمْ وَأَسْمَائِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالْأَشْقِيَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ وَمَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ ، ثُمَّ يُدْرِكُ أَحَدَهُمْ شَقَاؤُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَمَلُ بِخَوَاتِيمِهِ " ثَلَاثًا ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : هُوَ صَالِحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے اپنی مٹھی میں کوئی چیز لی ہوئی تھی ، آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو کھولا اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت ، ان کی تعداد ، ان کے اسماء ، ان کے حسب نسب کا بیان ہے ، جو قیامت کے دن تک ہوں گے ، ان لوگوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، بعض اوقات کسی سعادت مند شخص کو بدنصیبی کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے : یہ اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہو گا ، اور یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ؟ لیکن پھر وہ مرنے سے پہلے سعادت کی طرف چلا جاتا ہے ، خواہ وہ مرنے سے اتنی دیر پہلے جائے ، جتنی دیر میں اونٹنی کا دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بایاں ہاتھ کھولا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ تحریر بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ہے ، اس میں اہل جہنم ، ان کی تعداد ، اور ان کے نام ہیں ، قیامت تک جتنے بھی لوگ ہوں گے ، ان سب کا اس میں ذکر ہے ، ان میں کوئی کی نہیں ہو گی اور ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ لوگ جو بدنصیب ہوتے ہیں ، یہ سعادت مندوں کے راستوں پر چل رہے ہوتے ہیں ، اور یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ ( سعادت مندوں ) میں سے ایک ہوں گے ، اور ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتے ہیں ، لیکن پھر ان میں سے کسی ایک کو اُس کے مرنے سے پہلے ، اُس کی بدنصیبی لاحق ہو جاتی ہے ، خواہ وہ اتنی پہلے ہو ، جتنی دیر دو مرتبہ انفٹنی کا دودھ دوہنے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عمل میں خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔