مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ . باب: پرہیز ، تقدیر کے مقابلے میں ، فائدہ نہیں دیتا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ ، وَالدُّعَاءُ يَنْفَعُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - مَا لَمْ يَنْزِلِ الْقَدَرُ ، وَإِنَّ الدُّعَاءَ لِيَلْقَى الْبَلَاءَ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الدُّعَاءِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پرہیز ، تقدیر کے مقابلے میں فائدہ نہیں دیتا ہے ، اور دعا اُس چیز کے بارے میں نفع دیتی ہے ، جو تقدیر کا حکم نازل نہ ہوا ہو ، دعا ، آزمائش سے ملتی ہے ، اور پھر وہ دونوں قیامت کے دن تک جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ، جسے أحمد بن صالح مصری نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ دیگر احادیث کتاب الدعاء میں آگے چل کر آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔