مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ كُلِّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ . باب: ہر چیز ، تقدیر کے مطابق ہے
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : اجْتَمَعْتُ أَنَا وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي مَسْجِدِ الْخِيفِ ، فَتَذَاكَرْنَا الْقَدَرَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا وَكَثُرَ لَغَطُنَا ، فَقَامَ طَاوُسٌ فَقَالَ : أَنْصِتُوا أُخْبِرْكُمْ مَا سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَكَلَّفُوهَا ، رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ ، فَاقْبَلُوهَا ، الْأُمُورُ كُلُّهَا بِيَدِ اللَّهِ ، مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا ، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا ، لَيْسَ لِلْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلَا مَشِيئَةٌ " ، فَقَامَ الْقَوْمُ جَمِيعًا وَهُمْ رَاضُونَ بِمَا قَالَ طَاوُسٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ التِّرْمِذِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں طاؤس یمانی ، عمرو بن دینار ، مکحول شامی اور حسن بصری ( ہم سب ) مسجد خیف میں موجود تھے ، ہم تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، ہماری آوازیں بلند ہو گئیں ، جب ہماری آوازیں زیادہ ہو گئیں ، تو طاؤس کھڑے ہوئے اور بولے : تم لوگ خاموش ہو جاؤ ! میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں ، جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر فرائض عائد کیے ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں ، تم ان کی خلاف ورزی نہ کرو ، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روکا ہے ، تو تم ان سے باز آ جاؤ اور وہ کچھ چیزوں کے حوالے سے ، بھولے بغیر خاموش رہا ہے ، تو تم اُن ( امور یا چیزوں ) کے درپے نہ ہو ، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ، تم اسے قبول کرو ، تمام امور اللہ تعالیٰ کے دست مبارک میں ہیں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کا صدور ہوتا ہے اور اُسی کی طرف أن ( امور ) نے لوٹنا ہوتا ہے ، اُن کے بارے میں بندوں کے لئے کوئی تفویض یا مشیت نہیں ہے ۔ “ تو تمام لوگوں نے یہ کہا: کہ وہ طاؤس کی بیان کی ہوئی اس بات سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ترمذی ہے اور وہ متروک ہے ۔