مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ كُلِّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ . باب: ہر چیز ، تقدیر کے مطابق ہے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : تُمَارَى بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَدَرِ فَكَرِهَهُ كَرَاهِيَةً شَدِيدَةً حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، فَقَالَ : " فِيمَا أَنْتُمْ ؟ " ، قَالُوا : تَمَارَيْنَا فِي الْقَدَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ بِقَضَاءٍ وَقَدَرٍ وَلَوْ هَذِهِ " وَضَرَبَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى حَبْلِ ذِرَاعِهِ الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کے بارے میں بحث کی گئی ، تو آپ نے اس کے بارے میں شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ، یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے آپ کے چہرے پر انار کے دانے ڈال دیے گئے ہوں ، آپ نے فرمایا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز قضا و قدر کے مطابق ہے ، خواہ یہ ہی کیوں نہ ہو ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی ، دوسرے بازو کی کلائی پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔