کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہر چیز ، تقدیر کے مطابق ہے
حدیث نمبر: 11898
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : تُمَارَى بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَدَرِ فَكَرِهَهُ كَرَاهِيَةً شَدِيدَةً حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، فَقَالَ : " فِيمَا أَنْتُمْ ؟ " ، قَالُوا : تَمَارَيْنَا فِي الْقَدَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ بِقَضَاءٍ وَقَدَرٍ وَلَوْ هَذِهِ " وَضَرَبَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى حَبْلِ ذِرَاعِهِ الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کے بارے میں بحث کی گئی ، تو آپ نے اس کے بارے میں شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ، یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے آپ کے چہرے پر انار کے دانے ڈال دیے گئے ہوں ، آپ نے فرمایا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز قضا و قدر کے مطابق ہے ، خواہ یہ ہی کیوں نہ ہو ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی ، دوسرے بازو کی کلائی پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11899
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : اجْتَمَعْتُ أَنَا وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي مَسْجِدِ الْخِيفِ ، فَتَذَاكَرْنَا الْقَدَرَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا وَكَثُرَ لَغَطُنَا ، فَقَامَ طَاوُسٌ فَقَالَ : أَنْصِتُوا أُخْبِرْكُمْ مَا سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَكَلَّفُوهَا ، رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ ، فَاقْبَلُوهَا ، الْأُمُورُ كُلُّهَا بِيَدِ اللَّهِ ، مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا ، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا ، لَيْسَ لِلْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلَا مَشِيئَةٌ " ، فَقَامَ الْقَوْمُ جَمِيعًا وَهُمْ رَاضُونَ بِمَا قَالَ طَاوُسٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ التِّرْمِذِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں طاؤس یمانی ، عمرو بن دینار ، مکحول شامی اور حسن بصری ( ہم سب ) مسجد خیف میں موجود تھے ، ہم تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، ہماری آوازیں بلند ہو گئیں ، جب ہماری آوازیں زیادہ ہو گئیں ، تو طاؤس کھڑے ہوئے اور بولے : تم لوگ خاموش ہو جاؤ ! میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں ، جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر فرائض عائد کیے ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں ، تم ان کی خلاف ورزی نہ کرو ، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روکا ہے ، تو تم ان سے باز آ جاؤ اور وہ کچھ چیزوں کے حوالے سے ، بھولے بغیر خاموش رہا ہے ، تو تم اُن ( امور یا چیزوں ) کے درپے نہ ہو ، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ، تم اسے قبول کرو ، تمام امور اللہ تعالیٰ کے دست مبارک میں ہیں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کا صدور ہوتا ہے اور اُسی کی طرف أن ( امور ) نے لوٹنا ہوتا ہے ، اُن کے بارے میں بندوں کے لئے کوئی تفویض یا مشیت نہیں ہے ۔ “ تو تمام لوگوں نے یہ کہا: کہ وہ طاؤس کی بیان کی ہوئی اس بات سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ترمذی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11899
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11900
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْخَيْلُ تَمْزَعُ مِنَّا أَوْ تَنْزِعُ ؟ فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ السَّابِقِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گھوڑا ہماری طرف سے تیز دوڑتا ہے ، یا الگ ہوتا ہے ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی پہلے کی کتاب ( یعنی تقدیر ) میں موجود ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں :
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11900
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2162)»