مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ . باب: تقدیر کے بارے میں بات چیت کرنے کی ممانعت
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : اجْتَمَعَ أَرْبَعُونَ مِنَ الصَّحَابَةِ يَنْظُرُونَ فِي الْقَدَرِ وَالْجَبْرِ ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَنَزَلَ الرُّوحُ الْأَمِينُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ أَحْدَثُوا ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ فِي مِثْلِهَا ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ، وَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُتَلَمِّعًا لَوْنُهُ ، مُتَوَرِّدَةً وَجْنَتَاهُ ، كَأَنَّمَا تَفْقَأُ بِحَبِّ الرُّمَّانِ الْحَامِضِ ، فَنَهَضُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاسِرِينَ أَدْرِعَتَهُمْ ، تَرْعَدُ أَكُفُّهُمْ وَأَذْرُعُهُمْ ، فَقَالُوا : تُبْنَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ : " أَوْلَى لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ لَتُوجِبُونَ ، أَتَانِي الرُّوحُ الْأَمِينُ فَقَالَ : اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَدْ أَحْدَثَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : چالیس صحابہ کرام اکٹھے ہو کر تقدیر اور مجبور ہونے کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے ، ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، روح الامین سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں ، کیونکہ وہ ایک نئی چیز کے بارے میں مبتلا ہو گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے وقت میں اُن کے پاس تشریف لائے ، جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف نہیں لاتے تھے ، لوگوں کو اس بات پر حیرانگی ہوئی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ کی رنگت تبدیل تھی ، آپ کی کنپٹیاں پھولی ہوئی تھیں ، اور یوں لگ رہا تھا جیسے آپ پر انار کو ڈال دیا گیا ہے ( یعنی آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ) وہ لوگ تیزی سے اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ان کی ہتھیلیاں اور کلائیاں کپکپا رہی تھیں ، ان لوگوں نے عرض کی : ہم اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے مناسب ہی ہوتا ، اگر تم ( اس کو ) واجب کر دیتے ، روح الامین میرے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں ، کیونکہ انہوں نے نئی چیز پیدا کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔