مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ التَّسْلِيمِ لِمَا قَدَّرَهُ اللَّهُ - سُبْحَانَهُ . باب: اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر میں طے کیا ہے ، اُسے تسلیم کرنا
وَعَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بَصَرُهُ وَبَعْدَمَا أُصِيبَ ، فَسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ ، فَقَالَ : وَجَدْتُ أَجْرَأَ النَّاسِ فِيهِ حَدِيثًا أَجْهَلَهُمْ بِهِ ، وَأَضْعَفَهُمْ فِيهِ حَدِيثًا أَعْلَمَهُمْ بِهِ ، وَوَجَدْتُ النَّاظِرَ فِيهِ كَالنَّاظِرِ فِي شُعَاعِ الشَّمْسِ ، كُلَّمَا ازْدَادَ فِيهِ نَظَرًا ازْدَادَ [ بَصَرُهُ فِيهَا ] تَحَيُّرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی رخصت ہونے سے پہلے اور بینائی رخصت ہو جانے کے بعد بھی ، اُن کے ساتھ رہا ہوں ، ان سے تقدیر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ چیز پائی ہے کہ اس کے بارے میں سب سے درست بات وہ شخص کرتا ہے ، جو اس سے سب سے زیادہ ناواقف ہو ، اور اس کے بارے میں سب سے زیادہ ضعیف بات وہ کرتا ہے ، جو اس کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہو ، اور میں نے یہ بات بھی پائی ہے کہ اس کے بارے میں غور و فکر کرنے والے شخص کی مثال ، سورج کی شعاع کی طرف دیکھنے والے کی مانند ہے ، وہ جتنا زیادہ دیکھتا ہے ، اُس کے بارے میں اُس کی بینائی کی حیرت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوسلمہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔