مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ . باب: تقدیر کے بارے میں بات چیت کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا : كُنَّا فِي مَجْلِسِ أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْقَدَرَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا ، فَعَبَسَ وَانْتَهَرَ وَقَطَّبَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَهْ ، اتَّقُوا اللَّهَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَادِيَانِ عَمِيقَانِ فَغْرَانِ [ مُظْلِمَانِ ] ، لَا تُهَيِّجُوا عَلَيْكُمْ وَهَجَ النَّارِ " ، ثُمَّ أَمَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَقُومُوا ، ثُمَّ قَامَ وَبَسَطَ يَمِينَهُ وَبَسَطَ إِصْبَعَهُ الشِّمَالَ ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ ، وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَعَشَائِرِهِمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ " ، ثُمَّ بَسَطَ شِمَالَهُ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ النَّارِ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ ، وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَعَشَائِرِهِمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، أَعْذَرْتُ ؟ أَنْذَرْتُ ؟ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ ، قَالَ أَحْمَدُ : أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ . ¤سیدنا ابودرداء ، سیدنا واثلہ بن اسقع ، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا انس بن مالک ضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ساتھ ایک محفل میں موجود تھے اور تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں تشریف لائے ، آپ نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے تھے اور چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” رک جاؤ ! اے محمد کی امت ! تم اللہ سے ڈرو ! دو گہری ، کھلے منہ والی ، تاریک وادیاں ہیں ، تم اپنے خلاف آگ کی شدت کو نہ بھڑکاؤ ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ اُٹھ جائیں ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور بائیں ہاتھ کو بند رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ایک تحریر ہے ، جو اہل جنت کے ناموں کے بارے میں ، اُن کے آباء و اجداد ، ان کی ماؤں ، اُن کے خاندانوں کے ناموں کے بارے میں ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ۔ “ پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے آنے والا مکتوب ہے ، جس میں اہل جہنم کے نام ہیں ، ان کے آباء و اجداد ، ان کی ماؤں ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، کیا میں نے عذر بیان کر دیا ہے ؟ میں نے ڈرا دیا ہے ؟ اے اللہ میں نے تبلیغ کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک عبداللہ بن یزید بن آدم ہے ، امام أحمد کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث موضوع ہوتی ہے ۔