مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ التَّسْلِيمِ لِمَا قَدَّرَهُ اللَّهُ - سُبْحَانَهُ . باب: اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر میں طے کیا ہے ، اُسے تسلیم کرنا
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : يَا مُوسَى ، يَخْلُقُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلْقًا ثُمَّ يُعَذِّبُهُمْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنِ ازْرَعْ فَزَرَعَ ، ثُمَّ قَالَ : احْصُدْ فَحَصَدَ ، ثُمَّ قَالَ : دَرِّهِ فَدَارَّهُ ، فَاجْتَمَعَ الْقُمَاشُ ، فَقَالَ : لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْلُحُ هَذَا ؟ قَالَ : لِلنَّارِ ، قَالَ : فَكَذَلِكَ لَا أُعَذِّبُ مِنْ خَلْقِي إِلَّا مَنِ اسْتَأْهَلَ النَّارَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل نے کہا: اے سیدنا موسیٰ علیہ السلام ! آپ کے پروردگار نے ایک مخلوق کو پیدا کیا ، پھر وہ انہیں عذاب دے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : تم کوئی چیز بو دو ! انہوں نے وہ چیز بو دی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب اس کو کاٹو انہوں نے اسے کاٹ دیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب اس کو چھان لو ! انہوں نے اسے چھان لیا ، پھر صرف بھوسہ باقی رہ گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ کس کام آ سکتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : آگ جلانے کے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح میں بھی اپنی مخلوق میں سے صرف اس شخص کو عذاب دوں گا ، جسے میں آگ کا اہل بناؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔