مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
وَفِي رِوَايَةٍ " لَمْ يَطْعَمْ طَعْمَ الْإِيمَانِ ، [ وَ ] إِنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ حَقِيقَةَ الْعِلْمِ بِاللَّهِ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ " ، قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَوْقُوفًا بِاخْتِصَارٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ وَفِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي أَحَدِهِمَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھے گا ، تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کی حقیقت تک ، اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتے ، جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوعاتکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔